وبا کے دوران قربانی کا کیا حکم ہے؟

257

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین اور معروف عالم دین مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ قربانی عبادت مقصودہ ہے، اس کا متبادل مالی صدقہ نہیں ہوسکتا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ حالات کو بنیاد بناکر قربانی کے بجائے مالی صدقے کی بات قرآن و سنت کے خلاف ہے۔

مفتی منیب نے کہا کہ  سندھ حکومت کے نمائندوں سے ملاقات میں مویشی منڈیاں شہر سے باہر لگانے پر اتقاق ہوا ہے، مویشی منڈیاں چار دیواری میں لگائی جائیں،  زیادہ سے زیادہ اجتماعی قربانی کی جائے۔

مفتی منیب الرحمان نے کہا کہ قربانی کی کھالیں خریدنے والے جلد کھالیں محفوظ مراکز تک منتقل کریں، قربانی کی جگہوں پر صفائی اور جراثیم کش ادویات کا اسپرے کیا جائے، حکومت بیمار جانوروں کی منڈیوں میں آمد کی روک تھام کو یقینی بنائے، مویشی منڈیوں میں گاہک اور بیوپاری ماسک کا استعمال کریں۔

انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتیں 8 تا 15 ذوالحجہ جراثیم کش اسپرے کریں، قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے گزشتہ سال کا اجازت نامہ قابل عمل ہوگا، سندھ حکومت نےکھالیں جمع کرنے والے گزشتہ سال کے اجازت نامے قابل استعمال قرار دیے ہیں۔

مفتی منیب الرحمان کا کہنا ہے کہ عوام اجتماعی قربانی کے لیے دینی تنظیموں اور مدارس کو ترجیح دیں، بچوں کو مویشی منڈی نہ لے کرجائیں، گلیوں میں جانوروں کو نہ گھمائیں، نمائش نہ لگائیں۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سے تمام معاملات طے ہوچکےہیں، شہر کے باہر مویشی منڈیاں لگیں گی تاکہ شہری آبادی محفوظ رہے۔

Comments