وائرس کیا ہے؟

749
What Is A Virus
وائرس – ایک معمولی وجود جو سائنس کے مطابق نہ جاندار ہے نہ بے جان بلکہ ان دونوں کے بین بین ہے – اس کا وجود صرف ایک “دستور العمل” ہے ، ایک جینیاتی پیغام , ایک انسٹرکشن مینوئل یا اسے انسٹرکشن کوڈ کہہ لیں ۰ یہ اپنے وجود میں اکیلا ہو تو بیکار ہے ، کچھ کرنے کے لائق نہیں۰۰۰ اس کا عمل تب شروع ہوتا ہے جب یہ کسی انسان جانور پودے یا کسی اور لائف فارم کے جاندار خلیے میں پہنچتا ہے ۰
وائرس کسی جاندار کے خلیے میں پہنچ کر اپنا پیغام یعنی اپنی انسٹرکشن اس میں تقسیم در تقسیم کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ یہ اس جاندار خُلیے کا نصب العین بدل دیتا ہے ۰ گویا جو خلیہ ایک جسم کے اندر پہلے خود کو اللہ کا دیا ہوا کردار سنبھالے ہوئے تھا ، اب وہ اس سے روگردانی کر کے وائرس کے ڈی این اے کے احکامات بجا لانے لگتا ہے
یہ سلسلہ ایک خلیے کی خرابی سے شروع ہوتا ہے اور اگر اس پر قابو نہ پایا جائے تو آخر کار سارا جسم اس کے آگے ہتھیار ڈال دیتا ہے ۰۰۰ یہ آہستہ آہستہ جسم کے تمام قوانین و ضوابط کو توڑ دیتا ہے اور اس کا انجام موت ہے
اللہ نے جسم میں قانون کی خلاف ورزی روکنے کے لیے مدافعاتی نظام بنا رکھا ہے – جو کسی بھی وائرس کے حملے کی صورت میں خودکار نظام کے طور پر کام کرتا ہے ۰ اس میں وہ نیٹ ورک بھی ہے جو وائرس کو خلیوں پر حملہ آور ہونے سے پہلے باہر ہی روکتا ہے – اور ایسے خلیوں کا ایک نیٹ ورک بھی موجود ہے جو سارے نظام میں گھوم پھر کر دیکھتے ہیں کہ کہیں کسی خلیے سے یہ سگنل تو نہیں آرہا کہ اس پر وائرس حملہ کر چکا ہے ۰ وہ خلیے بھی ہیں جو حملے کا علم ہونے کے بعد سارے مدافعاتی نظام کو مقابلے کے لیے متحرک کر دیتے ہیں۰
جس جسم کا مدافعت کا نظام مضبوط ہو، وہ زیادہ نقصان اٹھائے بغیر ہی اس حملے کو ناکارہ بنا دیتا ہے ۰۰۰ اس میں یہ بھی اہم ہے کہ حملہ آور وائرس اس مدافعت کے مقابلے میں کتنی دیر کھڑا رہنے کی طاقت رکھتا ہے ۰۰۰ پھر وہ جسم ہیں جن کا مدافعاتی نظام اتنا مضبوط نہ رہا ہو ۰۰ اس کو باہر سے مدد یعنی ویکسین وغیرہ کی مدد سے اس حملے کو پسپا کرنے کی طاقت فراہم کی جاتی ہے – اور پھر تیسری صورت یہ ہے کہ جسم کا نظام اس قدر کمزور ہو چکا ہو کہ بیرونی مدد بھی کچھ افاقہ نہ کر سکے – اس کا انجام موت ہے ۰ زندگی اور موت دونوں صورتوں میں دوسرے اجسام کے بچاو کے لیے وائرس زدہ جسم سے معاشرتی فاصلہ ( سوشل ڈسٹنسنگ ) ضروری ہے ۰یعنی وائرس کی صحبت سے بچا جائے ۰۰

Comments