کورونا سے جاں بحق افراد کی نماز جنازہ و تدفین

622
Guidelines for burial of coronavirus patients

کورونا وائرس باعث جاں بحق ہونے والے افراد کے غسل و تدفین کے طریقہ کار پر ملک بھر میں نامکمل معلومات پھیلی ہوئی ہیں، یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ مرنے والے کا آخری دیدار نصیب نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے اپنوں کے ہاتھوں قبر میں اتارنے کی اجازت ملتی ہے۔

اسی طرح نماز جنازہ میں شرکت کے حوالہ سے بھی سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر مسلسل بحث جاری ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے ایک عبوری ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں بہت سے معاملات واضح کر دیے گئے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق میت کو غسل دیتے ہوئے تمام افراد کو حفاظتی لباس لازمی پہننا چاہیے۔

اسی طرح خاندان کے افراد اور دوست احباب میت کی تدفین کے لیے تیار ہونے کے بعد اسے دیکھ سکتے ہیں مگر اسے چھو نہیں سکتے اور نہ ہی بوسہ دے سکتے ہیں۔

میت کو غسل دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ دستانوں کا استعمال کرے اور چہرے پر ماسک اور چشمے کا استعمال کرے، بعد ازاں غسل دینے والے افراد اپنے کپڑے تبدیل کر لیں اور ہاتھوں کو اچھی طرح دھو لیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق میت پر ثقافتی اصولوں کا اطلاق کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لاش کو ایک میٹر کے فاصلے سے دیکھا جائے۔

بچوں اور 60 سال سے اوپر عمر کے افراد کو میت کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے، اس کے علاوہ جن لوگوں کو کسی قسم کی سانس کی بیماری ہے انہیں میت کے پاس نہیں جانا چاہیے اور اگر  وہ جائیں بھی تو ماسک پہن کر فاصلے سے میت کو دیکھیں۔

جو لوگ میت کو قبر میں اتاریں، انہیں چاہیے کہ دستانے پہنیں اور تدفین کے بعد پانی اور صابن سے اچھی طرح ہاتھ دھوئیں۔

اگرچہ تدفین کو مقامی طریقوں کے مطابق بروقت عمل میں لایا جائے لیکن اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے کہ تدفین کے علاوہ آخری رسومات کی دیگر تمام تقریبات کو وباء کے خاتمے تک موخر کیا جائے۔

اگر کسی تقریب کا انعقاد ضروری سمجھا جاتا ہے تو شرکاء کی تعداد کم ازکم رکھی جائے، تقریب کے دوران جسمانی دوری کے علاوہ سانس کے حوالے سے احتیاط اور ہاتھوں کی حفظان صحت کا خیال رکھنا چاہیے۔

مرنے والے شخص کے سامان کو جلانے یا اسے ختم کرنے کی ضرورت نہیں تاہم انہیں دستانے کے ساتھ سنبھالنا چاہیے اور ڈٹرجنٹ سے صاف کرنا چاہیے، بعد ازاں کم از کم 70 فیصد ایتھانول پر مشتمل گاڑھے محلول کے ساتھ جراثیم کش کرنا چاہیے۔

اسکے علاوہ مرنے والے کے کپڑوں کو زیادہ درجہ حرارت والے گرم پانی سے صابن کے ساتھ دھونا چاہیے۔

Comments